لاہور ہائی کورٹ نے پی ایس ایل کے مالی معاملات کے متعلق درخواست نمٹادی

0
954

لاہور ہائی کورٹ نے پی سی بی کی جانب سے باہمی رضامندی سے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد پی ایس ایل کے مالی معاملات کے متعلق درخواست نمٹادی۔

عدالت عالیہ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ  نے موقف اختیار کیا فرنچائز مالکان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

عدالت میں فرنچائزز کے وکلا احمر بلال صوفی اور سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پچھلے 5 سال میں کسی فرنچائز نے منافع نہیں کمایا، فرنچائزز نے کہیں بھی کنٹریکٹ کی خلاف ورزی نہیں کی جبکہ ہم کہتے ہیں کہ پورے نظام کو ہی ری اسٹرکچر کیا جائے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی سی بی بھی مانتا ہے کہ نظام میں خرابیاں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ماڈل ہو جو آگے چلے، فرنچائزز کو پانچ سال میں ساڑھے 8 ارب کا نقصان ہوا، اگلے پانچ سالوں میں کیا ہو گا۔

پی سی بی کی جانب سے مسئلہ باہمی رضامندی سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی جس پر عدالت نے درخواست نمٹادی۔

عدالت نے قرار دیا کہ کورونا کی وجہ سے غیر معمولی حالات ہیں، پی سی بی فرنچائزز سے افہام و تفہیم سے معاملات حل کرے۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ امید ہے کہ جب آپ مل کر بیٹھے گے تو کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا، پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے معاشی بدحالی ہے، ایسے حالات میں پی سی بی دیکھے کہ کیا رعایت دے سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 24 ستمبر کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تمام فرنچائزوں نے لیگ کے مالیاتی ماڈل کی تبدیلی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا تھا۔

پاکستان سپر لیگ میں شریک تمام 6 فرنچائزوں نے بورڈ کے خلاف مشترکہ موقف اپناتے ہوئے مقدمے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان کو فریق بنایا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں احمر بلال صوفی اور سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے درخواست گزاروں کو 21-2020 کے سیزن کے لیے مکمل فرنچائز فیس 25 ستمبر 2020 تک جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور یہ مانگ ملک میں کرکٹ کے فروغ کے فرائض کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ضروری ہے۔

فرنچائزوں کا دعویٰ تھا کہ پی ایس ایل سے پی سی بی امیر ہو رہا ہے لیکن فرنچائزوں کو ہر سیزن نقصان ہو رہا ہے۔