فاطمہ کی شاندار کارکردگی، آخری میچ میں ویسٹ انڈیز ویمن کرکٹ ٹیم کو شکست

0
454
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے نارتھ ساونڈ (انٹیگوا) کے سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں 19 سالہ کھلاڑی فاطمہ ثنا کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت مسلسل دوسرے میچ میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی جہاں انہوں نے میزبان ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو (ڈی ایل ایس طریقہ کار) کے تحت پانچویں اور فائنل ون ڈے انٹرنیشنل میں 22 رنز سے شکست دی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیفنی ٹیلر کی قیادت میں ویسٹ انڈیز ویمن کرکٹ ٹیم نے پہلے تین میچوں میں کامیابی کے بعد سیریز 3-2 سے جیت لی۔
ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 194 رنز کا ہدف عبور کرنا تھا تاہم ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم میچ کی آخری گیند پر 171 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، رائٹ آرم فاسٹ باؤلر فاطمہ ثنا نے سات اوورز میں 39 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور دوسری مرتبہ میچ کی بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔
فاطمہ ثنا نے پہلے اسپیل میں ڈینڈرا ڈوٹن کی 47 گیندوں پر 37 رنز اور بریٹنی کوپر کی 53 گیندوں پر 40 رنز کی اننگز تمام کیں، جس کے بعد میچ کے آخری اوور میں رشادہ ولیم کو 5 رنز، شینل ہنری کو 14 اور انیسہ محمد کو صفر پر آوٹ کیا اور تقریباً 8 سال بعد پاکستان کی جانب سے کسی کھلاڑی کی بہترین کارکردگی کا ریکارڈ برابر کردیا۔
پی سی بی کی سال کی بہترین ایمرجنگ کھلاڑی 2020 کا اعزاز حاصل کرنے والی فاطمہ نے سیریز کا اختتام 11 وکٹوں کے ساتھ کیا، گزشتہ ون ڈے میچ میں ان کی 30 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرنے کی کارکردگی پاکستان کرکٹ ٹیم کی میزبان کے خلاف جیت کے لیے مددگار ثابت ہوئی۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز ٹیم کی کپتان اسٹیفنی ٹیلر نے ٹاس جیت کر پہلے باؤ لنگ کا انتخاب کیا تو فاطمہ 19 گیندوں پر 28 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں، جس کی مدد سے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے 34 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنائے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کو بارش کے باعث دو اوور کم ملے تو ہدف میں تبدیلی کرتے ہوئے 194 رنز مقرر کیا گیا، بارش کے باعث اننگز 36 اوور تک محدود کردی گئی تھی کیونکہ صبح ہونے والی بودنا باندی کے باعث میچ 2 گھنٹے 40 منٹ تاخیر سے شروع ہوا تھا۔
فاطمہ نے 4 چوکے مارے جس کی مدد سے اختتامی 5 اوورز میں پاکستانی ٹیم نے 40 رنز بنائے تھے۔
وکٹ کیپر اور بلے باز منیبہ علی نے 4 چوکوں کی مدد سے 59 گیندوں پر 39 رنز بنائے اور 13 رنز بنانے والی سدرہ امین کے ساتھ اوپننگ شراکت میں 41 رنز جوڑے۔
عمائمہ سہیل مسلسل دو کامیاب نصف سنچریوں کے ساتھ دو کھلاڑیوں سدرہ اور کپتان جویریہ خان کے آؤٹ ہونے کے بعد کریز پر آئیں اور حریف ٹیم کی باؤلرز کو بیک فٹ پر کردیا۔
عمائمہ 16 رنز کی کمی سے تیسرے ایک روزہ میچ میں اپنی نصف سنچری نہیں بناسکیں، انہوں نے کائنات امتیاز کے ساتھ کھیلتے ہوئے 34 رنز کا اضافہ کیا، جنہوں نے 24 گیندوں پر 21 رنز بنائے جبکہ عمائمہ نے 3 چوکوں کی مدد سے 34 گیندوں پر 37 رنز بنائے۔
ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی 16 سالہ عائشہ نسیم نے 14 گیندوں پر ایک چھکے کی مدد سے 16 رنز بنائے اور شبیکا گجنانی کی گیند پر آؤٹ ہوگئیں، انہوں نے 26 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔
شینل ہنری اور انیسہ محمد دونوں دو،دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
پاکستان کی ویمن کرکٹ ٹیم نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنائے، منیبہ علی نے 39، عمائمہ سہیل نے 34 رنز بنائے، فاطمہ ثنا 28 اور کائنات امتیاز 21 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں۔
ویسٹ انڈیر کی سبیکا گجنابی نے 26، شینل ہنری نے 37 اور انیسہ محمد نے 39 رنز دے کر 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔
ویسٹ انڈیز ویمن کرکٹ ٹیم نے 34 اووز میں 171 رنز بنائے (بریٹنی کوپر نے 40، ڈینڈرا ڈوٹن نے 37 رنز بنائے)۔
پاکستان کی جانب سے ثنا فاطمہ نے 39 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور ڈیانا بیگ نے 32 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کی۔
فاطمہ ثنا کو میچ کی بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔